ارتقاء کہانی


ارتقاء کہانی: ڈاکٹر محمد طارق

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کی سازشی تھیوریوں کو وقتی سہی لیکن بھرپور قبولیت ملی۔ اگرچہ وقت کیساتھ ساتھ ماہرین نے ان تھیوریوں کی قلعی کھول دی لیکن ہمارے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات اس قدر مضبوطی سے بیٹھ گئی تھی کہ انہیں قائل کرنا انتہائی مشکل تھا۔ یہاں تک کہ بیماری ہونے پر وائرس کو سازش ماننے والوں نے سنا مکی کو دوا مان لیا لیکن ویکسین لگوانے سے انکار کیا۔ اگر کورونا وائرس حقیقیت نہیں بلکہ کوئی سازش تھی تو پھر سنا مکی کو بطور دوا استعمال کرنا چہ معنی دارد؟

ہمیں سکولوں اور کالجوں میں سائنس انتہائی بھونڈے انداز میں پڑھائی جاتی ہے (ادب کونسا سہی طریقے سے پڑھایا جاتا ہے!)۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے سائنس کسی اور سیارے یا دنیا کی چیز ہے۔ ہمیں اپنی روز مرہ زندگی میں ٹیکنالوجی تو نظر آتی ہے، سائنس نہیں۔ اس لئے میری خواہش تھی کہ میں سائنس کے کسی موضوع کو لیکر ہلکے پھلکے انداز میں اسے عام قارئین کیلئے نسبتاً آسان اور حتی الوسع دلچسپ پیرائے میں پیش کروں۔ مجھے احساس ہے کہ اس طرح سائنس کی تکنیکی جزئیات تو شاید رہ جائیں لیکن اس سے سائنس کو عام لوگوں تک پہنچانے میں مدد ملنے کا امکان بہر حال موجود ہے۔ اور ویسے بھی میرا مقصد سائنس کی منظم تعلیم نہیں بلکہ اس کی مقبولیت ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر میری اس کاوش سے لوگوں میں کسی سائنسی موضوع پر دلچسپی پیدا ہوئی، تو تکنیکی جزئیات وہ شاید خود ہی متعلقہ کتابوں میں پڑھ لیں۔ اس سلسلے میں ارتقاء کے موضوع پر میں نے فیس بک پر ایک سلسلہ شروع کیا ہے اور کچھ مضامین لکھے ہیں۔ جو قارئین میری فرینڈ لسٹ میں نہیں ہیں، ان کیلئے وہ مضامین یہاں پیشِ خدمت ہیں۔

میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالرازق کاکڑ کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے اپنی ویب سائٹ پر مدعو کیا ۔ پروفیسر صاحب میرے پرانے مہربان ہیں اور ان کی طرف سے ملنے والی پزیرائی نے ہمیشہ مجھے حوصلہ اور توانائی بخشی۔

ڈاکٹر محمد طارق